Pages - Menu

قاسم علی شاہ ، وکی پیڈیا اور ہم


بلاشبہ قاسم علی شاہ آج کے دور میں مجھ جیسے سینکڑوں نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ میرا ان سے تعلق ابھی  بالکل نیا نیا اور صرف ایک ناظر کا ہے چونکہ یہی کوئی ہفتہ دس دن پہلے انکی پہلی وڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔  یہ وڈیو مجھے ایک دوست نے وٹس ایپ کی تھی۔ (جوکہ انکے ایک لیکچر/ٹریننگ سیشن کے کچھ کلپس پر مبنی تھی)۔ اسی  ایک وڈیو نے مجھے انکے اندازتلکلم ، زندہ دلی اور آواز کاگروید ہ کر دیاتھا،لیکن ابھی انکا تعارف نہ مل سکا۔

کیونکہ وٹس ایپ پر 14 میگا بائٹ کی میموری لمٹ میں رہتے ہوئے ،وڈیودورانیہ بڑھانے کیلئے کلپ کی وڈیو کوالٹی انتہائی خستہ کر دی گئی تھی ۔ اسی وجہ سے یہ پتا چلانا بہت مشکل تھا کہ یہ خوش گفتار ہے کون؟ اور کہاں ہوتا ہے؟وڈیو کے ایک کونے میں مونو گرام تو تھا لیکن  کوشش کے باوجود کچھ پڑھا نہیں گیا۔

پھر یوں ہوا کہ ایک وٹس ایپ پر  ہی ایک اور مہربان نے شاہ صاحب کا ایک اور کلپ شئیر کیا۔خوش قسمتی سے اس کلپ میں وڈیو کوالٹی کچھ بہتر تھی، یوں وڈیو کا سکرین شاٹ لیا اور پھر اسے  ذوم کر کےایک گوشے میں موجود مونو گرام کو 'ڈی کرپٹ' کیا تو پتا چلا کہ 'قاسم علی شاہ' لکھا ہوا ہے۔

بس پھر کیا تھا۔"ڈک ڈک گو" پر  کو سرچ کیا(جی ہاں، میں گوگل کی بجائےڈک ڈک گو نامی سرچ انجن استعمال کرتا ہوں) تو پہلے صفحے پر بیسویوں وڈیوز کے لنک مل گئے۔ہر وڈیو کے تھب نیل میں موجود تشبہہ موبائل سیٹ میں موجود قاسم علی شاہ سے مماثلت تو رکھتی تھی مگر جس لنک کی مجھے عادتاسب سے پہلے تلاش تھی ، وہ نہیں ملا۔

یہاں میں وکی پیڈیا کی بات کر رہا ہوں ،جہاں سے تقریباًہر نامور آدمی کا تعارف اور زندگی کا خلاصہ پڑھا ہے ۔ آپکے علم میں یقیناًہو گا کہ کسی بھی معروف شخصیت کو  انٹرنیٹ پر سرچ کریں تو پہلے رزلٹ میں وکی پیڈیا کا مضمون  سب سے اوپر ملے گا۔بلکہ کچھ سرچ انجن وکی پیڈیا مضمون کا پری ویو بھی سرچ رزلٹ کے ساتھ ہی دے دیتے ہیں۔تا کہ بہ آسانی ابتدائی تعارف مل سکے۔
اس لئے میرے نزدیک وہ آدمی در اصل مشہور ہے ہی نہیں جس کے اوپر ایک وکی پیڈیا پیج نہ موجودہو۔ساتھ ہی  وکی پیڈیا میں کسی شخصیت پر موجود مضمون کی طوالت سے ہی میں اس کی دنیا میں مقبلولیت کا صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

 وجہ یہ ہے کہ  وکی پیڈیا پر تمام مضامین رضا کاروں کی کمیونٹی لکھتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک سادہ سا تعارف بڑھتے بڑھتے ایک جامع مضمون بن جاتا ہے۔جتنا کوئی شخص مشہور ہو گا۔ اتنے ہی ذیادہ لوگ اس کے بارے میں جانیں گے اوراتنے ہی ذیادہ صارفین اپنی  معلومات وکی پیڈیا پر بھی اپڈیٹ کرتے رہے گے۔

ہمارے ہیروز اور ہماری بے حسی

 اب واپس شاہ صاحب کی طرف آتے ہیں ۔انکے یو ٹیوب چینل پر سینکڑوں وڈیوموجود ہیں۔ جن کو تقریبا 83 لاکھ سے ذائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ فیس بک پر انکے پیج کے بھی لاکھوں فین موجود ہیں۔اس کے علاوہ ڈیلی موشن اور ٹیون ڈاٹ پی پر ویوز کی تعداد علیحدہ ہے۔

خود شاہ صاحب کے بقول ان کے لاکھوں شاگرد ہیں جو کہ انکے سیمنارز اور ٹریننگ سیشن میں شرکت کر چکے ہیں۔
لیکن دیکھئے کہ ہمارا لمیہ ہے کہ ان لاکھوں شاگردوں میں سے سینکڑوں نے ان کے بارے میں گوگل سے سرچ ضرور کی ہو گی۔لیکن کسی ایک کو بھی محسوس نہیں ہوا کہ ان کے رول ماڈل پر ایک چھوٹا سا ویکی پیڈیا  تومضمون ہونا چاہیے۔

انٹرنیٹ سے ہی شاہ صاحب سے واقفیت کچھ مزید بڑھی ہے ۔ پتا چلا کہ قاسم صاحب مصنف بھی ہیں اور ایک اسکول چین کے مالک بھی  ہیں۔انکی کتابوں کے متعلق بابے گوگل پہ سرچ کیا تو دو کتابیں ملیں۔ایک انکی پہلی کتاب"کامیابی کا پیغام " اور دوسری "ذرانم ہو تو یہ مٹی"سے تعارف ہوا۔مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں کتابوں کی غیر قانونی پی ڈی ایف کے بھی بیسویں لنک ملے لیکن ایک بھی ایسا لنک نہ ملا جس میں مصنف کا بنیادی تعارف  اور خاکہ ہی مل سکے۔

نوٹ 1
وکی پیڈ یا پر مضمون لکھنا نہایت آسان ہے، کسی بھی عنوان نے وکی پیڈیا میں سرچ کیجئے اگر سرچ رزلٹس میں اس عنوان پر کو ئی مضمون نہیں تو پھر وکی پیڈیا آپکو یہ دعوت دیتا ہے کہ آپ اس عنوان پر ایک نیا مضمون تحریر کر کے محفوظ کر سکتے ہیں۔ اس نئے مضمون میں دوسرے وکی پیڈیا رضاکار وقتا فوقتا اضافہ کرتے رہے گے اور یوں عنوان کی مقبولیت کے مطابق اس کی طوالت بھی بڑھتی رہے گی۔
نوٹ 2
اسم علی شاہ پر اردو اور انگلش وکی پیڈیا پر انتہائی واجبی معلوما ت پر مبنی مضامین لکھ کر اپنی تسلی کا سامان پیدا کر لیا ہے۔شاہ صاحب کے چاہنے والوں میں اگرکوئی ان میں اضافہ کرنا چاہئے تو بسم اللہ ، مجھ جیسے کئی اور شاگردوں کو انکے جواب مل جائیں گے۔باقی میں تو انکا فین ہوں ہی، جیسے جیسے ان کی بارے میں مزید  سن گھن ملتی رہے گی، وکی پیڈیا پر بھی اپڈیٹ جاری رہے گی۔
مکمل تحریر >>

رند کے رند رہے

پچھلے کچھ سال سے اگرچہ،مگر انتہائی بے قائدگی سے بلاگ لکھنے کی مشقت جاری ہے۔ لیکن چونکہ میرا پہلا بلاگ"سائنسیات"  ایک موضوعاتی بلاگ ہے جس پر "فاضل  مصنف" نے سائنس اور ٹیکنالوجی پر تحریریں لکھنی شروع کی تھیں۔ آجکل  ہر طرف ٹیکنالوجی کے چرچے ہیں ، اس لئےشایداسی چکا چوند میں میں نے بھی سائنس پر کم اور ٹیکنالوجی پر ذیادہ لکھنا شروع کر دیا۔ 
چونکہ باقی بلاگر فیملی اپنے اپنے بلاگ پر ہر طرح کے موضوعات پر بلاگ کشائی کرسکتی ہے اورسائنسیات کا موضع اس بات کی اجازت نہیں دیتا، اس لئےسائنس کے علاوہ باقی موضوعات پر ہمارے لب سلے ہی رہے ہیں۔ چنانچہ ایک عرصے سے ارادہ تھا کہ ایک' بلاگ سا بلاگ' بھی لکھا جائےکہ جس میں ویب صفحات پر "حال دل "بکھیر کر اپنا دل ہلکا اور دوسروں ( یعنی آپ جو بھولے بھٹکے سے یہاں تک آ گئے ہیں کا دل بوجھل کر دیا جائے۔

لکھنے میں دیر کی ایک وجہ تو بھی تھی کہ بلاگ لکھیں گے تو اس کو کوئی عنوان بھی دینا پڑھے گا مگر سارے اچھے نام پہلے سے ہی کاپی رائٹ ہو چکےتھے۔ یوں عمر دراز کے چار دنوں میں سے دو تو عنوان سوچنے میں ہی کٹ گئے۔ باقی ماندہ دو اللہ کرے کہ لکھنے میں صرف ہوں ۔ اتنی تمہید کے بعد اس بلاگ کے عنوان " رند لاگ" کی وجہ تسمیہ بتانا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ آخر پہلی پوسٹ میں کچھ  سطروں کا اضافہ بھی تو ضروری ہے۔

بہت پہلے میٹرک کی اردو کتاب میں شامل غزلیں ہمیں بہت پسند تھیں۔  انکے علاوہ بھی سینکڑوں شعر یاد تھےکہ تب یاداش اچھی تھی ہر نیا شعر جو اچھا لگا فوراً یاد ہو جاتا تھا۔اسی عرصہ میں ہمارے اردو کے استاد جب کسی  غزل کے اشعار کی تشریح کراتے تو عموماً ہر شعر کے تشریح میں ایک اور شعر پڑھا دیتے۔ہمیں بھی ہدایات تھیں کہ پیپر میں بھی شعر کے تشریح کرنے ہوئے اگر ایک اور شعر لکھیں گے تو ممتحن پورے نمبردینے پر مجبور ہوگا۔ ایسے ہی کسی شعر کی تشریح کرتے ہوئے استاد محترم  نے ایک شعر پڑھا:
"شام کو مے پی صبح کو توبہ کرلی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی" 
یہ شعر اچھا لگا، فورا یاد ہو گیا۔ پھر مزید عرصہ بیتا اور ہم یونیورسٹی پہنچ گئے۔ایک چھوٹے گاؤں کے سرکاری  سکول اور پھر چھوٹے شہرکے گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے مجھے یہ خوش فہمی ہو گئی کہ ایک وفاقی یونیورسٹی میں سبھی طلباء  ہر وقت غور و فکر میں مشغول اور علم و ادب میں گندھے ہوئے  ہونگے ۔

خیر یہ خوش فہمی  ، خوش فہمی ہی رہی ، یونیورسٹی جا کر بھی علم سے شغف رکھنے اقلیت میں ہی ملے۔ وہیں ملاقات آفتاب نقوی سے ہوئی جو کہ اس وقت ماسٹرز پروگرام میں تھے ۔ یہ باقی بھیڑ سے بہت جدا لگے۔ خیالات ایک تھے پھردوستی تو بڑھنی ہی تھیں۔ایک دن باتوں باتوں میں پتا چلا موصوف ڈرامے بھی لکھتے ہیں بلکہ ایک ڈرامہ سوسائٹی  بنام"رند ڈرامیٹک سوساسٹی "کےروح روان ہیں ، جہاں سوائے ایکٹنگ کے وہ  رائٹر ، ڈائرکٹر اور پروڈیوسر  سبھی کچھ ہیں۔ اگرچہ یہ سوسائٹی اتنی فعال نہ تھی مگر اسکے نام کا  "رند" بہت جچا۔

پھر یہ دور آیا جب ملازمت اختیار کر لی اور پڑھائی ختم ہونے کے بعد لکھنے کی کوشش بھی رہی،کچھ تو 16  تعلیمی سالوں اور کچھ  ہالی وڈ فلموں کی بدولت انگریزی سمجھ آنے لگ گئی تو انگلش ناول پڑھنے اور سننے (ٰAudio Books) شروع کئے۔ اسی دوران  ایک ناول"دی ماریشین " پڑھا/سنا جس میں ہیرو مارک واٹنی روزانہ ایک "لاگ" ریکارڈ کرتا  ہے ۔ قاری  انہیں Logs کے ذریعے ہی اس ناول کی کہانی اور پلاٹ سمجھتا ہے۔ صرف یہی  بس نہیں ہالی وڈ فلموں "اوتار" اور "آئی ایم لیجنڈ" میں بھی ہیرو ویڈیو لاگ ریکارڈ کرتے پائے گئے ہیں۔

تو صاحبان اب تک تو آپ سمجھ ہی چکے ہونگے کہ اس بلاگ کا نام "رند لاگ" دو مختلف پس منطروں سے ملکر بنا ہے۔ اسلئے کوشش ہو گی کہ جو بات دل میں ہو "رند لاگ میں رقم کرتے رہیں"۔ فی الوقت بلاگ میں آمد اور اس تحریر کو پڑھنے پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

مکمل تحریر >>