Pages - Menu

رند کے رند رہے

پچھلے کچھ سال سے اگرچہ،مگر انتہائی بے قائدگی سے بلاگ لکھنے کی مشقت جاری ہے۔ لیکن چونکہ میرا پہلا بلاگ"سائنسیات"  ایک موضوعاتی بلاگ ہے جس پر "فاضل  مصنف" نے سائنس اور ٹیکنالوجی پر تحریریں لکھنی شروع کی تھیں۔ آجکل  ہر طرف ٹیکنالوجی کے چرچے ہیں ، اس لئےشایداسی چکا چوند میں میں نے بھی سائنس پر کم اور ٹیکنالوجی پر ذیادہ لکھنا شروع کر دیا۔ 
چونکہ باقی بلاگر فیملی اپنے اپنے بلاگ پر ہر طرح کے موضوعات پر بلاگ کشائی کرسکتی ہے اورسائنسیات کا موضع اس بات کی اجازت نہیں دیتا، اس لئےسائنس کے علاوہ باقی موضوعات پر ہمارے لب سلے ہی رہے ہیں۔ چنانچہ ایک عرصے سے ارادہ تھا کہ ایک' بلاگ سا بلاگ' بھی لکھا جائےکہ جس میں ویب صفحات پر "حال دل "بکھیر کر اپنا دل ہلکا اور دوسروں ( یعنی آپ جو بھولے بھٹکے سے یہاں تک آ گئے ہیں کا دل بوجھل کر دیا جائے۔

لکھنے میں دیر کی ایک وجہ تو بھی تھی کہ بلاگ لکھیں گے تو اس کو کوئی عنوان بھی دینا پڑھے گا مگر سارے اچھے نام پہلے سے ہی کاپی رائٹ ہو چکےتھے۔ یوں عمر دراز کے چار دنوں میں سے دو تو عنوان سوچنے میں ہی کٹ گئے۔ باقی ماندہ دو اللہ کرے کہ لکھنے میں صرف ہوں ۔ اتنی تمہید کے بعد اس بلاگ کے عنوان " رند لاگ" کی وجہ تسمیہ بتانا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ آخر پہلی پوسٹ میں کچھ  سطروں کا اضافہ بھی تو ضروری ہے۔

بہت پہلے میٹرک کی اردو کتاب میں شامل غزلیں ہمیں بہت پسند تھیں۔  انکے علاوہ بھی سینکڑوں شعر یاد تھےکہ تب یاداش اچھی تھی ہر نیا شعر جو اچھا لگا فوراً یاد ہو جاتا تھا۔اسی عرصہ میں ہمارے اردو کے استاد جب کسی  غزل کے اشعار کی تشریح کراتے تو عموماً ہر شعر کے تشریح میں ایک اور شعر پڑھا دیتے۔ہمیں بھی ہدایات تھیں کہ پیپر میں بھی شعر کے تشریح کرنے ہوئے اگر ایک اور شعر لکھیں گے تو ممتحن پورے نمبردینے پر مجبور ہوگا۔ ایسے ہی کسی شعر کی تشریح کرتے ہوئے استاد محترم  نے ایک شعر پڑھا:
"شام کو مے پی صبح کو توبہ کرلی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی" 
یہ شعر اچھا لگا، فورا یاد ہو گیا۔ پھر مزید عرصہ بیتا اور ہم یونیورسٹی پہنچ گئے۔ایک چھوٹے گاؤں کے سرکاری  سکول اور پھر چھوٹے شہرکے گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے مجھے یہ خوش فہمی ہو گئی کہ ایک وفاقی یونیورسٹی میں سبھی طلباء  ہر وقت غور و فکر میں مشغول اور علم و ادب میں گندھے ہوئے  ہونگے ۔

خیر یہ خوش فہمی  ، خوش فہمی ہی رہی ، یونیورسٹی جا کر بھی علم سے شغف رکھنے اقلیت میں ہی ملے۔ وہیں ملاقات آفتاب نقوی سے ہوئی جو کہ اس وقت ماسٹرز پروگرام میں تھے ۔ یہ باقی بھیڑ سے بہت جدا لگے۔ خیالات ایک تھے پھردوستی تو بڑھنی ہی تھیں۔ایک دن باتوں باتوں میں پتا چلا موصوف ڈرامے بھی لکھتے ہیں بلکہ ایک ڈرامہ سوسائٹی  بنام"رند ڈرامیٹک سوساسٹی "کےروح روان ہیں ، جہاں سوائے ایکٹنگ کے وہ  رائٹر ، ڈائرکٹر اور پروڈیوسر  سبھی کچھ ہیں۔ اگرچہ یہ سوسائٹی اتنی فعال نہ تھی مگر اسکے نام کا  "رند" بہت جچا۔

پھر یہ دور آیا جب ملازمت اختیار کر لی اور پڑھائی ختم ہونے کے بعد لکھنے کی کوشش بھی رہی،کچھ تو 16  تعلیمی سالوں اور کچھ  ہالی وڈ فلموں کی بدولت انگریزی سمجھ آنے لگ گئی تو انگلش ناول پڑھنے اور سننے (ٰAudio Books) شروع کئے۔ اسی دوران  ایک ناول"دی ماریشین " پڑھا/سنا جس میں ہیرو مارک واٹنی روزانہ ایک "لاگ" ریکارڈ کرتا  ہے ۔ قاری  انہیں Logs کے ذریعے ہی اس ناول کی کہانی اور پلاٹ سمجھتا ہے۔ صرف یہی  بس نہیں ہالی وڈ فلموں "اوتار" اور "آئی ایم لیجنڈ" میں بھی ہیرو ویڈیو لاگ ریکارڈ کرتے پائے گئے ہیں۔

تو صاحبان اب تک تو آپ سمجھ ہی چکے ہونگے کہ اس بلاگ کا نام "رند لاگ" دو مختلف پس منطروں سے ملکر بنا ہے۔ اسلئے کوشش ہو گی کہ جو بات دل میں ہو "رند لاگ میں رقم کرتے رہیں"۔ فی الوقت بلاگ میں آمد اور اس تحریر کو پڑھنے پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔